منگلورو،27؍مارچ (ایس او نیوز) منگلورو کے مضافات سے پولیس نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی ہراسانی کرنے کے الزام میں 3 ملزمین کو گرفتار کیا ہے جن کی شناخت محمد منیر، تسوین اور صادق کے طور پر کی گئی ہے۔ جس میں سے محمد منیر کو کلیدی ملزم بتایا جاتا ہے۔
پولیس کمشنر این ششی کمار نے بتایا کہ :" 14 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی ہراسانی کا پتہ جب اس کے والدین کو چلا تو انہوں نے ویمنس پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی جس کے بعد ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان ملزمین ٹولیوں کا طریقہ کار یہ ہے کہ یہ لوگ نوجوان لڑکیوں اور ایسی عورتوں کے فون نمبر حاصل کرتے ہیں جن کے شوہر بیرون ممالک برسر روزگار ہیں۔ پھران سے دوستی بڑھانے کے بعد جنسی تعلقات پیدا کرلیتے ہیں اور جنسی عمل کے دوران ویڈیو کلپ بنا لیتے ہیں جسے بعد میں بلیک میلنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کئی ٹولیاں گروپورا کائکمبا علاقے میں سرگرم ہیں۔"
پولیس کمشنر کے بیان کے مطابق ابتدائی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس طرح کی سرگرمی میں ایک بہت بڑی گینگ ملوث ہے ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اور بھی بہت سی لڑکیاں جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی ہونگی۔ ایسی صورت میں متاثرہ لڑکیوں سے آگے آنے اور پولیس کے پاس شکایت درج کروانے کی اپیل کی گئی ہے۔
علاقہ کے لوگوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اکثر لڑکیاں اس طرح گینگ سے تعلق رکھنے نوجوانوں کے بہترین لباس اور مہنگی موٹر گاڑیوں سے متاثر ہوتی ہیں جو حقیقت میں ان لڑکوں ہی ملکیت ہوتی بھی نہیں ہیں۔ ان کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکار ہونے کے بعد بہت سی عورتیں ان لوگوں کو ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر عام کرنے سے باز رکھنے کے لئے زیورات اور بڑی بڑی رقم دیتی ہیں جس پر یہ لوگ عیش کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے لڑکیوں اور عورتوں کی عزت کے ساتھ کھیلنے والے نوجوانوں کی پہنچ سماج کے بااثر افراد تک ہوتی ہے ، اس لئے یہ لوگ بے خوف ہوکر ایسی سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔